Nothing playing

(اووو...) (آہ...) خواب ہیں آنکھوں میں، سینے میں ارمان ہے جیکب آباد کا ہر بچہ اب بیدار ہے قلم کی طاقت سے ہمیں تاریخ لکھنی ہے اندھیروں کو مٹا کے اب سحر کرنی ہے دور دراز کے شہروں کا سفر کب تک کریں؟ اپنے ہی گھر میں تعلیم سے ہم کیوں محروم رہیں؟ ہمیں بھی حق ہے کہ ہم آگے بڑھیں سدا ہماری بھی سنی جائے گی ایک دن یہ صدا تعلیم کی روشنی سے یہ شہر جگمگائے گا جیکب آباد کا ہر نوجوان سر اٹھائے گا ہمیں چاہیے ترقی، ہمیں چاہیے پرواز آسمان کو چھوئے گی اب ہماری یہ آواز! جیکب آباد کو یونیورسٹی چاہیے! ہاں، جیکب آباد کو یونیورسٹی چاہیے! یہ زمین بھی زرخیز ہے، یہ لوگ بھی عظیم ہیں بس اک کمی ہے یہاں، وہ معیاری تعلیم ہے ہمارے حوصلے پست نہ ہوں گے، یاد رکھنا تم منزل کو پا کر ہی اب تو رکیں گے یہ قدم ہم بھی بنیں گے ڈاکٹر، انجینئر اور استاد روشنی سے بھر دیں گے ہم اپنا یہ جیکب آباد! تعلیم کی روشنی سے یہ شہر جگمگائے گا جیکب آباد کا ہر نوجوان سر اٹھائے گا ہمیں چاہیے ترقی، ہمیں چاہیے پرواز آسمان کو چھوئے گی اب ہماری یہ آواز! جیکب آباد کو یونیورسٹی چاہیے! ہاں، جیکب آباد کو یونیورسٹی چاہیے! جیکب آباد کو یونیورسٹی چاہیے!
Sign in to leave a comment.
No comments yet. Be the first!